16 جولائی 2013 - 19:30
افغانی پارلیمنٹ میں طالبان کے ساتھ مجوزہ امن منصوبہ پیش

افغانستان کی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے امن منصوبہ پیش کردیا ہے۔

ابنا: اس مصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ بین الاقوامی اجلاس اندرونی اور غیرملکی فریقوں کی شرکت کے ساتھ منعقد ہو۔یہ منصوبہ افغانستان کی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی تعلقات کمیٹی کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ مجویزہ امن منصوبہ کی تجویز پیش کرنے والوں کا کنہا ہے کہ افغانستان میں حقیقی امن کی بحالی کے لئے ، اس قسم کے اجلاس کے انعقاد کی ضرورت ہے۔اس منصوبے کے مسودے میں آیا ہے۔ یہ اجلاس افغان حکومت کے مخالفین اور مخالف و حامی ممالک اور ہمسایہ ممالک کے نظریات کے سامنے آنے کے لئے زمین ہموار کرسکتا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق ، اس اجلاس میں پارلیمانی نمائندوں، حکومتی نمائندوں، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سماجی تنظیموں، سیاسی شخصیات، افغان حکومت کے مخالفین کے نمائندوں اور پاکستان، ایران، ہندوستان، روس، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گئیاس منصوبے میں اسی طرح افغانستان کی حکومت کے امن کے عمل پر شدید تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ عمل ، مبہم اور نا مشخص ہے۔ اس منصوبے میں مزید آیا ہے کہ کابل حکومت کا امن کا عمل اس ملک میں تشدد میں کمی نہیں لاسکا اور اس امن عمل کا چندان فائدہ حاصل نہیں ہوسکا ہے اور اس شعبے میں حکومت کی ناکامی کی وجہ سے، افغانستان کے پارلیمانی نمائندے میدان میں آئے ہیں تاکہ مصالحت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔حالیہ دنوں میں افغان حکومت اور اس ملک کی امن کی اعلی کونسل کی امن کے حوالے سے انجام دی جانے والی کوشیشوں پر افغانستان کی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے شدید تنقید کی ہے۔جبکہ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے قومی آشتی کے لئے افغان حکومت اور اس ملک کی امن کی اعلی کونسل کے پروگرام کو ناکارہ پروگرام سے تعبیر کیا ہے ، افغانستان کی امن کی اعلی کونسل کے رکن محمد اسماعیل قاسمیار نے امن کی برقراری کے لئے کابل حکومت کی کوشیشوں کے بے نتیجہ ہونے کے حوالے سے اس ملک امور میں یورپی یونین کے نمائندے کے حالیہ بیان کو مسترد کردیا ہے ۔قاسم یار نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ جاری کوشیشوں کو دیکھتے ہوئے امن کے عمل میں قابل قدر پیشرفت حاصل ہوگی ، افغانستان کے امور میں یورپی یونین کے خصوصی نمائندے ویگاو ڈاس یوساکاس نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان گفتگو کا نتیجہ دو ہزار پندرہ تک بھی نہیں نکلے گا ۔اس سے قبل قومی سلامتی کے امور میں افغان صدر کے  مشیر رنگین دادفر اسپنتا نے افغان پارلیمنٹ کے عام اجلاس میں کہا تھا کہ ابھی تک افغانستان میں امن کے عمل کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے ۔افغانسان کی امن کی اعلی کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ دو جانبہ امن مذاکرات کے شعبے میں امریکہ کے خود غرصانہ اقدامات اور ان مذاکرات میں افغان حکومت کو فری ہینڈ نہ دینا ، اس ملک میں امن و استحکام کی برقراوی کے لئے کابل کی کوشیشوں کی ناکامی کی اصلی وجہ ہے ۔

.......

/169